جمعہ، 7 اکتوبر، 2016

پیار سے پیاز تک

یہ ان دنوں کا واقع ہے جب میرے پیارے پاکستان میں لوڈشیڈنگ اور عمران خان جیسی نحوستیں نہیں ہوتی تھیں اور نہ ہی موبائل ہوتا تھا ہر طرف راوری خود سو رہا تھا کیونکہ چین چین ہی تھا۔ یہ وہ دور تھا جب گلی کا ہر لونڈا سنجے دت متھن بنا ہوا تھا۔ ان جیسا بالوں کا سٹائیل بنانا لازمی ہو چکا تھا۔ میں اس وقت کلاس نہم میں اپنے گھر والو کا نام تاریک نہ کرنے کی کوشش میں تھا۔ 
میں میرا دوست عادل اور میرا کزن جو ہماری کلاس کا منیٹر تھا۔ 
فلم کا موڈ بن گیا اب مسئلہ تھا کلاس سے بھاگنا اور استاد کے کان پکڑا کر تشریف لال ہونے سے بچنا۔ کزن کی منت ترلے کیے کہ حاضری لگا دینا اور ہمیں جانے دو ، کزن نکلا عادل کا عاشق فرماتا عادل میرے گلے لگ جائے تو جانے کی اجازت دوں گا، عادل نے جھپی ڈالی اور ہم دیوار پھلانگ کر سکول سے باہر۔ اب ہم ایک جھپی پر ہفتے میں دو دفعہ سکول سے بھاگ جایا کرتے تھے ، 

فلم دھڑکن چل رہی تھی ادھر ہم سکول سے بھاگ کر فلموں والی اندھیری دوکان میں پہنچ گئے ہر طرف سگریٹوں کا دھواں اور اسی دھوایں میں سیٹھی اکشے شلیپا سیٹھی کے بیچ دھواں دار محبت کی جنگ چل رہی تھی ، فلم ختم ہوئی تو من چاہا ایسی محبت میں بھی کروں گا کوئی میرے ساتھ بھی سیٹ ہونی چائیے۔ اسی آس میں محلے کو ذہن میں لایا اور سارا محلہ گنگھالا کوئی لڑکی نہ ملی (دل ٹوٹس مومنٹ)

پھر ایک دن کڑکٹتی دھوپ میں گھر کے باہر کھڑا تھا ایک لڑکی کا گزرہوا جو گھر کے قریبی ٹیوشن سنٹر جا رہی تھی ۔ میں نے اسے گھور کر دیکھا اور آنکھ مارنے کی ناکام کوشش میں دونوں آنکھیں بند کر بیٹھا وہ ہنس پڑی مگر ٹیویشن سنٹر داخل ہوتے ہوئے اس نے پیچھا موڑ کر دیکھا ۔۔ اور بس میں ٹلی ہو گیا ۔
روز یہی ہوتا رہا میں دوستوں کے پاس کھڑا ہو کر شو مارتا کہ دیکھنا اب یہ پلٹ کر دیکھے گی اور وہی ہوتا ۔ میں خود کو فلمی ہیرو سمجھنا شروع ہو گیا ، اب کبھی اس کے گھر کے پاس سائیکل کی چین اتار کر بیٹھ جاتا کبھی اس کے گھر کے چکر لگاتا کہ بات کرو مگر بات نہیں ہو پائی۔

اس چکروں میں جون کی تپتی دوپہر میں میں اس کے گھر کے قریبی کھلے میدان میں کھجل ہو رہا تھا کہ چھت پر آ کر دیدار کروا دے مگر نہ آسمان پر کوا نہ کوئی میدان میں انس میں اور میری تنہائی ۔۔ 

اچانک ایک آدمی ادھر آ نکلا پاس آیا اور مجھے پوچھتا کیا نام ہے ۔ 
عرفان
آدمی : کہاں رہتے ہو
میں :یہی 
آدمی:ماسٹر ( اسی لڑکی کا والد ) کے گھر کا پتہ ہے ؟
(میں شاٹ ہو گیا میں نے دل میں سوچا بیٹا آج تو تو گیا بہت مار پڑنے والی ہے ٹانگیں کانپ رہی اور پسینے ہر جگہ سے چھوٹ رہے )
میں : جی پتہ ہے وہ وہاں جا کر اس طرف۔
آدمی : اچھا ایک کام کرو ماسٹر کے گھر جاو اور پوچھ کے آو ماسٹر گھر پر ہے میں یہی کھڑا ہوں ( شکر ہے اس کو نہیں پتہ لگا کہ میں یہاں کیا کر رہا ہوں تسلی ہوئی ہوش سنبھالا اور کہا جی میں ابھی پوچھ کے آیا)

میں اب خوش کہ ملاقات کا کیا بہانہ مل گیا واہ مولا تیرے رنگ بالوں کو تھوک لگا کر سیٹ کیا اور سیدھا دروازے کو بڑے ادبی طریقے سے کھڑکایا۔ 

جی کون اندر سے بھاری زنانہ آواز آئی (لڑکی کی ماں ۔)

دروازہ کھولا لڑکی کی امی کہتی جی بیٹا کیا ہے میں نے پوچھا جی وہ ماسٹر صاحب ہیں وہاں ایک آدمی کھڑا ہے وہ پوچھ رہا ہے۔ 

ماسٹر کی بیوی : نہیں وہ گھر پر نہیں ہیں دروازہ بند 

دو بجے کے ٹائم پر میں نے منہ پر بارہ بجائے کیونکہ دیدار نہ ہوسکا واپس جہاں آدمی کھڑا تھا گیا اور بتایا کہ ماسٹر گھر پر نہیں ہیں ۔

یہ سننا تھا کہ آدمی کی خوشی کی باچیں کھل گئی میں حیران اسے کیا ہوا ۔ فوری مجھے پچاس کا نوٹ دیا اور شاباش دی اور کہا اب جاو اور ماسٹر کی بیوی کو کہو "جمشید " آیا ہے میں گھر آ جاو ۔

میں ہکا بکا کہ یہ آدمی تو خود میرے مشن کی امی کے مشن پر ہے۔ سارے سپنے ٹوٹ گئے جیسے مئی ٢٠١٣ میں عمران خان کے ٹوٹے تھے ۔ میں نے پچاس کا نوٹ جیب میں ڈالا اور کہا اچھا میں پتہ کر کے آتا ہوں ۔

میں  نے وہاں سے دوڑ لگائی پوار گاوں کا چکر لگا کر دوسرے راستے سے گھر کو ہو لیا۔۔

ان پچاس میں سے ٢٠ روپے کےمیں عادل اور کزن گولے کھائے اور باقی ٣٠ کے میں نے ریڑھی سے ٥ کلو پیاز لیے تاکہ  کڑکتی دھوپ میں مار سے بچنے کے لیے  امی کو رشوت دے سکوں۔ ( پر چپلوں سے تو سکندر بھی نہیں بچا ہو گا )




19 تبصرے:

  1. ہاہاہا ہاہاہا ہاہاہا ہاہاہا ہاہاہا ہاہاہا ہاہاہا ہاہاہا ہاہاہا ہاہاہا ہاہاہا ہاہاہا ہاہاہا ہاہاہا
    جیوندا رہ شیرا
    جلدبازی میں املاء کی ماں بہن ایک کر دی آپ
    مزہ آیا یار . لکهتے رہیں پر زرا آرام سکون سے

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. جلدی میں لکھا ابھی دوبارہ پڑھا واقع میں کافی مت رول دی ہے اردو کی

      حذف کریں
  2. یہ تبصرہ مصنف کی طرف سے ہٹا دیا گیا ہے۔

    جواب دیںحذف کریں
  3. ہاہاہا اگر آئیندہ بھی ایسے ہی بلاگ لکھنے والے ہو تو ضرور لکھنا

    جواب دیںحذف کریں
  4. ہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہا پیاز کا حق ادا کر دیا

    جواب دیںحذف کریں
  5. بہت عمدہ، جیتے رہیں، اللہ آپ کے قلم میں مزید شرارت عطا فرمائے تا اور آپ ایسے ہی مسکراہٹیں بکھیرتے رہیں

    جواب دیںحذف کریں
  6. ھاھاھاھاھاا........هم نه هوں گے همارے بعد پیاز پیاز

    جواب دیںحذف کریں
  7. ھاھاھاھاھاا........هم نه هوں گے همارے بعد پیاز پیاز

    جواب دیںحذف کریں
  8. واہ بھائی واہ جوانا،
    سواد آیا آرائیوں کی پیاز سے عقیدت کا رنگ بھر دیا۔
    😂😂😂😂

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. یایایایایپاپاپاپپاہاہاہہاہاا بس ویکھ لا فیر :ڈ

      حذف کریں