ہفتہ، 29 اکتوبر، 2016

اسلم اور کالے چشمے والی

 ٹائروں کی دوکان سڑک کے ساتھ ایک بڑے شہتوت کی ٹھنڈی چھاوں کے نیچے تھی اسلم لکڑی اور پرانے ٹائروں کو کاٹ کر بنائے ہوئے منجے پر لیٹا سستا رہا تھا کہ اچانک ایک 15 ماڈل ہنڈا سٹی نے دوکان کے سامنے بریک ماری۔ اسلم ہڑبڑا کر اٹھ گیا گاڑی کی طرف دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا گاڑی میں ایک خوبصورت پچس سالا لڑکی کالا چشمہ لگائے کھلےبالوں کے ساتھ ڈرائیونگ سیٹ سے شیشہ نیچے کر کے اسلم کو دیکھ رہی تھی اور اسلم کی دھڑکنیں بے قابو ہو رہی تھیںپچس سالا لڑکی کالا چشمہ لگائے کھلےبالوں کے ساتھ ڈرائیونگ سیٹ سے شیشہ نیچے کر کے اسلم کو دیکھ رہی تھی اور اسلم کی دھڑکنیں بے قابو ہو رہی تھیں ٹائرز کی ہوا چیک کر دیں لڑکی بولی ، اسلم اپنے گندے مٹی والے بالوں کو سیٹ کرتے ہوئے پھر ان ہی ہاتھوں کو اپنی پھٹی ہوئی بینیان سے صاف کر کے

ہوا والے پائپ کو پکڑا اور چاروں ٹائزر کی ہوا برابر کرکے پوچھتا جی اور حکم ۔نہیں بس شکریہ کتنے پیسے۔لڑکیکچھ بھی نہیں ۔ اسلملڑکی مسکرادیاور بولی اگر مصروف نہیں تو کیا آپ میرے ساتھ فلاں جگہ تک جائیں گے میں تھک گئی ہوں مزید ڈرائیونگ نہیں ہو رہی ۔ اسلم نے فوری ہاں کر دی اور ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا گیا ۔ گاڑی کو منزل کی جانب دوڑانے لگا ۔ باتیں بھی ساتھ ساتھ جاری تھیں کے لڑکی نے اسلم کا ہاتھ پیار سے پکڑ لیا اور ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا گیا ۔ گاڑی کو منزل کی جانب دوڑانے لگا ۔ باتیں بھی ساتھ ساتھ جاری تھیں کے لڑکی نے اسلم کا ہاتھ پیار سے پکڑ لیا اسلم شرما گیا لڑکی بولی ادھر دیکھو میرے ساتھ چلو گے لاہور میں اکیلی ہوتی ہوں اسلم تو جیسے ہواؤں میں اڑنا شروع ہو گیا ہو کہتا ہاں ہاں ہاں اتنے میں گاڑی کے سامنے موٹر سائیکل آ گئی لڑکی چیخی اسلم بریکککککککک ۔۔۔۔۔۔اسلم نے پورا زور لگایا اور بریک کو ایسے دبایا کہ انگوٹھا ایسی جگہ پھنس گیاجہاں سے رضائی کو چھوٹا سا سوراخ تھا اور زور سے بریک لگانے کی وجہ سے ساری رضائی پھٹ گئی ۔

جمعہ، 7 اکتوبر، 2016

پیار سے پیاز تک

یہ ان دنوں کا واقع ہے جب میرے پیارے پاکستان میں لوڈشیڈنگ اور عمران خان جیسی نحوستیں نہیں ہوتی تھیں اور نہ ہی موبائل ہوتا تھا ہر طرف راوری خود سو رہا تھا کیونکہ چین چین ہی تھا۔ یہ وہ دور تھا جب گلی کا ہر لونڈا سنجے دت متھن بنا ہوا تھا۔ ان جیسا بالوں کا سٹائیل بنانا لازمی ہو چکا تھا۔ میں اس وقت کلاس نہم میں اپنے گھر والو کا نام تاریک نہ کرنے کی کوشش میں تھا۔ 
میں میرا دوست عادل اور میرا کزن جو ہماری کلاس کا منیٹر تھا۔ 
فلم کا موڈ بن گیا اب مسئلہ تھا کلاس سے بھاگنا اور استاد کے کان پکڑا کر تشریف لال ہونے سے بچنا۔ کزن کی منت ترلے کیے کہ حاضری لگا دینا اور ہمیں جانے دو ، کزن نکلا عادل کا عاشق فرماتا عادل میرے گلے لگ جائے تو جانے کی اجازت دوں گا، عادل نے جھپی ڈالی اور ہم دیوار پھلانگ کر سکول سے باہر۔ اب ہم ایک جھپی پر ہفتے میں دو دفعہ سکول سے بھاگ جایا کرتے تھے ، 

فلم دھڑکن چل رہی تھی ادھر ہم سکول سے بھاگ کر فلموں والی اندھیری دوکان میں پہنچ گئے ہر طرف سگریٹوں کا دھواں اور اسی دھوایں میں سیٹھی اکشے شلیپا سیٹھی کے بیچ دھواں دار محبت کی جنگ چل رہی تھی ، فلم ختم ہوئی تو من چاہا ایسی محبت میں بھی کروں گا کوئی میرے ساتھ بھی سیٹ ہونی چائیے۔ اسی آس میں محلے کو ذہن میں لایا اور سارا محلہ گنگھالا کوئی لڑکی نہ ملی (دل ٹوٹس مومنٹ)

پھر ایک دن کڑکٹتی دھوپ میں گھر کے باہر کھڑا تھا ایک لڑکی کا گزرہوا جو گھر کے قریبی ٹیوشن سنٹر جا رہی تھی ۔ میں نے اسے گھور کر دیکھا اور آنکھ مارنے کی ناکام کوشش میں دونوں آنکھیں بند کر بیٹھا وہ ہنس پڑی مگر ٹیویشن سنٹر داخل ہوتے ہوئے اس نے پیچھا موڑ کر دیکھا ۔۔ اور بس میں ٹلی ہو گیا ۔
روز یہی ہوتا رہا میں دوستوں کے پاس کھڑا ہو کر شو مارتا کہ دیکھنا اب یہ پلٹ کر دیکھے گی اور وہی ہوتا ۔ میں خود کو فلمی ہیرو سمجھنا شروع ہو گیا ، اب کبھی اس کے گھر کے پاس سائیکل کی چین اتار کر بیٹھ جاتا کبھی اس کے گھر کے چکر لگاتا کہ بات کرو مگر بات نہیں ہو پائی۔

اس چکروں میں جون کی تپتی دوپہر میں میں اس کے گھر کے قریبی کھلے میدان میں کھجل ہو رہا تھا کہ چھت پر آ کر دیدار کروا دے مگر نہ آسمان پر کوا نہ کوئی میدان میں انس میں اور میری تنہائی ۔۔ 

اچانک ایک آدمی ادھر آ نکلا پاس آیا اور مجھے پوچھتا کیا نام ہے ۔ 
عرفان
آدمی : کہاں رہتے ہو
میں :یہی 
آدمی:ماسٹر ( اسی لڑکی کا والد ) کے گھر کا پتہ ہے ؟
(میں شاٹ ہو گیا میں نے دل میں سوچا بیٹا آج تو تو گیا بہت مار پڑنے والی ہے ٹانگیں کانپ رہی اور پسینے ہر جگہ سے چھوٹ رہے )
میں : جی پتہ ہے وہ وہاں جا کر اس طرف۔
آدمی : اچھا ایک کام کرو ماسٹر کے گھر جاو اور پوچھ کے آو ماسٹر گھر پر ہے میں یہی کھڑا ہوں ( شکر ہے اس کو نہیں پتہ لگا کہ میں یہاں کیا کر رہا ہوں تسلی ہوئی ہوش سنبھالا اور کہا جی میں ابھی پوچھ کے آیا)

میں اب خوش کہ ملاقات کا کیا بہانہ مل گیا واہ مولا تیرے رنگ بالوں کو تھوک لگا کر سیٹ کیا اور سیدھا دروازے کو بڑے ادبی طریقے سے کھڑکایا۔ 

جی کون اندر سے بھاری زنانہ آواز آئی (لڑکی کی ماں ۔)

دروازہ کھولا لڑکی کی امی کہتی جی بیٹا کیا ہے میں نے پوچھا جی وہ ماسٹر صاحب ہیں وہاں ایک آدمی کھڑا ہے وہ پوچھ رہا ہے۔ 

ماسٹر کی بیوی : نہیں وہ گھر پر نہیں ہیں دروازہ بند 

دو بجے کے ٹائم پر میں نے منہ پر بارہ بجائے کیونکہ دیدار نہ ہوسکا واپس جہاں آدمی کھڑا تھا گیا اور بتایا کہ ماسٹر گھر پر نہیں ہیں ۔

یہ سننا تھا کہ آدمی کی خوشی کی باچیں کھل گئی میں حیران اسے کیا ہوا ۔ فوری مجھے پچاس کا نوٹ دیا اور شاباش دی اور کہا اب جاو اور ماسٹر کی بیوی کو کہو "جمشید " آیا ہے میں گھر آ جاو ۔

میں ہکا بکا کہ یہ آدمی تو خود میرے مشن کی امی کے مشن پر ہے۔ سارے سپنے ٹوٹ گئے جیسے مئی ٢٠١٣ میں عمران خان کے ٹوٹے تھے ۔ میں نے پچاس کا نوٹ جیب میں ڈالا اور کہا اچھا میں پتہ کر کے آتا ہوں ۔

میں  نے وہاں سے دوڑ لگائی پوار گاوں کا چکر لگا کر دوسرے راستے سے گھر کو ہو لیا۔۔

ان پچاس میں سے ٢٠ روپے کےمیں عادل اور کزن گولے کھائے اور باقی ٣٠ کے میں نے ریڑھی سے ٥ کلو پیاز لیے تاکہ  کڑکتی دھوپ میں مار سے بچنے کے لیے  امی کو رشوت دے سکوں۔ ( پر چپلوں سے تو سکندر بھی نہیں بچا ہو گا )