جمعہ، 26 فروری، 2016

خاموش قاتل


        خاموش قاتل

دونوں میں محبت دن بدن بڑھتی جا رہی تھی۔ وہ ہر دوسرے تیسرے دن نہر کنارے شام
 کے وقت ملتے تھے۔ دونوں ہی متوسط  گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ لڑکی پانچ تک پڑھی تھی اور لڑکا بھی کوئی خاص نہیں پڑھا تھا۔ ملاقاتوں کا سلسلہ جاری تھا لڑکے کو مالی پریشانی بھی نہیں تھی کیونکہ والد دبئی میں ڈرائیور تھا۔ اور وہ اکیلا 3 بہنوں کا لاڈلا بھائی تھا۔ برے دن کہاں بتا کر آتے ہیں ادھر لڑکی کے گھر والوں کو پتہ لگ گیا کہ ہماری لڑکی فلاں لڑکے سے ملتی ہے۔ لڑکی کے خاندان میں بات آگ کی طرح پھیل گئی۔ ہماری عزت پرداغ لگ گیا جیسی باتیں خاندان میں شروع ہو گئیں خواتین نے لڑکی کے گھر والوں کا جینا حرام کر دیا۔ بدنامی تقریبا ہو چکی تھی۔ لڑکی کے بھائی بھی اب اتنا زیادہ باہر نہیں نکلتے تھے مگر ان کے دماغ میں خون سوار ہو چکا تھا۔ دوسری طرف لڑکا عاشقی میں غرق ہو چکا تھا۔ کوئی فکر فاقہ نہ تھا۔ پھر ایک شام سرخ سامان تلے شام کو ڈھلتے دونوں نہر کنارے بیٹھے دیکھ رہے تھے کہ لڑکی کے بھائی اور خاندان کے لوگ وہاں آن پینچے لڑکے نے نہر میں چھلانگ لگا کر بھاگنے کی کوشش کی مگر دھر لیا گیا۔ لڑکی کے بھائیوں نے فورا اسے دبوچ لیا اور باہر نکال کے پہلے دنوں ٹانگیں کہلاڑی سے کاٹ دیں اور ساتھ کہہ رہے تھے ان ٹانگوں پر چل کر آتے تھے ہیں ان ٹانگوں پے۔ اور اسی طرح وار کر کر کے لڑکے کو ختم کر دیا اور ساتھ لڑکی 
کو بھی موقعے پر قتل کرکے خود تھانے پہنچ گئے۔

دوسری طرف لڑکے کے چاچے لڑکے کے ٹکڑوں کو لے کر گھر آ گئے بہنیں غشی سے بےہوش ہو گئیں دوسری طرف دبئی فون جا چکا تھا۔ دوسرے دن لڑکے کا باپ بھی گاوں پہنچ گیا آگ کا دریا دونوں طرف بہہ رہا تھا ۔ لڑکے کے باپ نے اپنے حواس قابو میں رکھے جنازہ ادا کیا۔ میت کو دفنایا اور نارمل روٹٰین پر آگیا۔ سوگ کے دن پورے کیے پھر لوگوں سے میل جول بڑھایا میرے ساتھ بھی گپ شپ ہوئی تو آدمی کافی مناسب تھا اور زندہ دل خوش باش اور ہنسی مذاق والا انسان تھا۔ میں حیران بھی تھا کہ یار کیا بندا ہے کہ جوان بیٹا قتل کر دیا گیا اور اتنی ہمت ۔ وقت گزرتا گیا لیکن کیا پتہ اندر کیا چل رہا تھا پھر ایک دن پتہ چلا وہ آدمی صبح اذان کے وقت جب لڑکی کے گھر والے بھینوں کا گوبر وغیرہ اٹھا رہے تھے وہاں پہنچا ریفل سے دو بندوں کو مارا اور فرار ہو گیا اس کا دبئی کا ٹکٹ ہو چکا تھا صرف موقعے اور وقت کے انتظار میں تھا اور مناسب وقت دیکھ کر اپنا کام کر گیا۔ لیکن میں سجھنے سے قاصر تھا کہ آخر اس نے یہ سب کیوں اور کیسے کر دیا وہ اس کی باتوں سے کبھی انتقام کا لفظ نہیں سنا تھا۔

مگر باتیں کہاں رُکتی آہستہ آہستہ سب سامنے آ گیا کہ لوگ خاندان میں اسے ڈرپوک کہنا شروع ہو گئے تھے کہ تم نامرد ہو جوان بیٹے کا بدلہ نہیں لے سکتے۔ روز روز ایسی باتیں سننے کو مل رہی تھی ایک دو بندوں نے تو یہ بھی کہہ دیا کہ اگر تم نہیں مار سکتےتو چوڑیاں پہن لو اور قاتلوں کو ہم مار آتے ہیں ۔ ان ہی باتوں پر وہ حواس پر قابو نہ رکھ سکا اور خاندان والوں کی باتوں میں آکر دو قتل کیے اور فرار ہو گیا۔

یہاں ایک دو بندوں کا معاملہ نہیں ہم مجموعی طور پر کیا ہیں آنر کلنگ میں اگر دیکھا جائے تو زیادہ شر خاندان والے اور آس پاس کے لوگ دیتے ہیں بے غیرتی کنجر پن کے طعنے دیتے ہیں جس پر کئی لوگ اپنا گھر بار چھوڑ کر کہیں اور چلے جاتے ہیں یا پھر وہی کرتے جو اوپر اس آدمی نے کیا۔